ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلورمیں شرپسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والے عبدالبشیر چل بسے؛ پولس کا سخت بندوبست؛ 10لاکھ روپے ہرجانہ کا اعلان

مینگلورمیں شرپسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والے عبدالبشیر چل بسے؛ پولس کا سخت بندوبست؛ 10لاکھ روپے ہرجانہ کا اعلان

Sun, 07 Jan 2018 14:17:22    S.O. News Service

منگلورو 7؍جنوری (ایس او نیوز) گزشتہ دنوں  دیپک راؤ نامی نوجوان کے قتل کے بعد رد عمل کے طور پر شر پسندوں کی جانب سے دومسلمانوں پر جو جان لیوا حملے ہوئے تھے ان میں سے ایک حملے کے شکارعبدالبشیر (48)  نے چار دن تک آئی سی یو میں داخل رہنے کے بعد علاج کارگر نہ ہونے پر آج اتوار صبح دم توڑ دیا ہے۔

مہلوک عبدالبشیر کے قریبی دوست پربھاکر آشا بھون نے بشیر کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہت ہی نیک اور رحم دل انسان تھا اس کی کسی سے بھی نہ کوئی دشمنی تھی اورنہ اس نے کبھی کسی کوکوئی تکلیف دی تھی۔ وہ ایک بے قصور شخص تھا جو مذہبی منافرت کے بھینٹ چڑھ گیا۔جب وہ اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا اس وقت اس کے گھر والے ہی نہیں بلکہ اس کے دوست احباب اور اڑوس پڑوس کے لوگ بھی اس کی زندگی کے لئے دعائیں مانگ رہے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ پربھا کر اور بشیر کی دوستی خلیجی ملک میں ملازمت کے دوران ہوئی تھی اورتقریباً15سال سے وہ ایک دوسرے کے جگری دوست بنے ہوئے تھے۔ بشیر جب اسپتال میں زیر علاج تھا تو پربھا کر اس کے اہل خانہ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے اوراُن کی ہمت بندھانے میں لگا ہوا تھا۔

کوئی جلوس نہیں ہوگا:   عبدالبشیر کی موت کے بعد گھروالوں نے واضح کیا ہے کہ  وہ جنازے میں کسی طرح کا کوئی جلوس نہیں نکالیں گے، سیدھے سادھے طریقہ پر کولّور مسجد میں  نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور مسجد کے ہی قبرستان میں اس کی تدفین ہوگی۔ جنازے میں قریبی رشتہ دار اور دوست احباب شریک ہوں گے۔ذرائع کے مطابق  عام لوگوں کو  آخری دیدار کے لئے مسجد میں ہی اجازت دی جائے گی۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  مرحوم عبدالبشیر کا ایک بیٹا حال ہی میں  وزٹ ویزا پر دبئی گیا تھا اور کچھ روز قبل ہی اُس کی ابوظبی میں نوکری پکی ہوئی تھی،  جس کو دیکھتے ہوئے اُس کا والد کے آخری دیدار کے لئے  پہنچنا مشکل ہے۔

ایڈیشنل ڈی جی پی کمل پنتھ، پولس کمشنر ٹی آر سریش سمیت اعلیٰ پولس حکام عبدالبشیر کی موت کی اطلاع ملتے ہی  اسپتال  پہنچے اور گھروالوں کے ساتھ تعزیت کی۔ پولس کے اعلیٰ حکام نے میڈیا کو گھروالوں کی طرف سے کئے گئے فیصلے سے آگاہ کرایا۔ پولس نے بتایا کہ بے قصور شخص کی موت  پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مینگلور میں پولس کا سخت انتظام کیا گیا ہےاور امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔

سٹی پولیس کمشنر ٹی آر سریش نے بتایا کہ بشیر کی جان پہچان نہ رہنے والے شرپسندوں نے صرف دیپک راؤ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے بشیرپر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اس موقع پر ضلع جنوبی کینرا کے ڈپٹی کمشنر سسی کانت سینتھیل نے مہلوک بشیر کے اہل خانہ کو ہرجانہ کے طور پر ضلع انتظامیہ اور ریاستی حکومت کی طرف سے فی کس پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ وزیر یوٹی قادر بھی  واقعے کی اطلاع ملتے ہی گھروالوں کے ساتھ تعزیت کے لئے پہنچ گئے تھے، جبکہ رکن اسمبلی محی الدین باوا  اپنے طور پر ابوظبی میں  موجود مرحوم عبدالبشیر کے فرزند کو  آخری رسومات میں شریک ہونے  مینگلور لانے کے لئے انڈین ایمباسی سے  رابطے میں تھے۔  

سابق وزیر کرشنا  پالیمر کے خلاف نعرے:   عبدالبشیر کی موت کی اطلاع ملنے پر سابق وزیر کرشنا پالیمر بھی اسپتال میں  گھروالوں سے تعزیت کے لئے پہنچے تھے، مگر برہم لوگوں  نے انہیں گھیرلیا اوراسپتال کےباہر  میڈیا والوں کے ساتھ  اُنہیں بات کرنے نہیں دیا۔ کچھ لوگوں نے اس موقع پر عبدالبشیر کی موت پر  سیاست نہ لانے کے  تعلق سے نعرے بازی بھی کی، کچھ لوگوں نے وزیر کو واپس جائو کے بھی نعرے لگائے۔ بعد میں پولس نے  عوام پر قابو پالیا اور کرشنا پالیمر کو پولس کو حفاظت کے ساتھ  وہاں سے لے کر چلی گئی۔

مینگلور میں حالات بالکل پرامن ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نپٹنے کے لئے پولس نے حفاظتی انتظامات سخت کررکھے ہیں۔

 


Share: